2 ستمبر 2011 - 19:30

سوئم اور احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ جب تک حکومت واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار نہیں کرتی اس وقت تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا، قومی بقا اور دہشت گردی کو روکنے کیلئے ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہیں، ملت تشیع کا خون پانی کی طرح بہایا جارہا ہے جبکہ حکومت خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے۔ سانحے میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

ابنا:

اسلام ٹائمز کی رپورٹ:مجلس وحدت مسلمین، شیعہ علما کونسل، بلوچستان شیعہ کانفرنس، ہزار قومی جرگہ، نور ویلفئیر سوسائٹی، یوسف زئی ویلفیئر ٹرسٹ اور دیگر قومی تنظیموں کی جانب سے نچاری امام بارگاہ میں شہدائے عیدالفطر کی رسم سوئم ادا کی گئی اور احتجاج جلسہ منعقد کیا گیا جس میں ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی اور شہدا کی بلندی درجات کیلئے قرآن خوانی اور خصوصی دعائیں کیں۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماء علامہ سید ہاشم موسوی، مرکزی سیکرٹری جوانان مولانا اعجاز حسین بہشتی، مرکزی سیکرٹری فلاح و بہود نثار فیضی، ہزارہ جرگہ کے رہنماء حاجی قیوم چنگیزی، بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر اشرف زیدی، ایم کیو ایم بلوچستان کے ابراہیم ہزارہ، معروف سیاسی لیڈر میجر نادر علی، سردار سعادت علی، شیعہ علما کونسل سے علامہ غلام مہدی نجفی، علامہ جمعہ اسدی اور ایم این اے سید ناصر علی شاہ نے احتجاجی جلسہ اور سوئم کے اجتماع سے خطاب کیا۔مقررین کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کے شہداء وہ ہیں جنہیں قائد مقاومت سید حسن نصراللہ نے عظیم شہداء سے تعبیر کیا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ دشمن یہ سمجتھا تھا کہ اس کے گھناونے کھیل اور ظلم و جبر سے القدس کا جلوس نہیں نکلے گا لیکن دنیا نے دیکھا کہ شہدائے القدس کے ورثاء نے نہ صرف قدس ریلی نکالی بلکہ دشمن امریکہ و اسرائیل پر ایسا طمانچہ رسید کیا کہ پہلے سے بھی بڑا اجتماع منعقد ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اُس مکتب کے پیروکار ہیں جس نے اس راہ میں عظیم قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی یہ قوم ان قربانیوں سے نہیں گھبرائے گی۔ حق و باطل کی جنگ حضرت آدم کے دور سے جاری ہے جو آخری وقت جارہی رہے گی اور انشاء اللہ ہم اس میں کامیاب و کامران ہونگے۔ مقررین نے عید الفطر کے واقعے کی شدید مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کے چہروں کو بے نقاب کیا جائے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں آئے روز دھماکے اور خودکش حملے ہورہے ہیں، امن وامان کی صورتحال دن بہ دن بگڑتی جارہی ہے جبکہ حکومت نام کی چیز نظر نہیں آتی۔ عوام کو ملک دشمن عناصر اور فرقہ پرست افراد کے ہاتھوں یرغمال بنا دیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت صرف کرپشن کرتی نظر آرہی ہے لیکن گورننس کہیں نظر نہیں آتی۔ مقررین نے کہا کہ وزیر داخلہ رحمان ملک، ملک بھر میں امن قائم کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں انہیں صوبائی وزیر داخلہ کے عہدے سے فوراً مستعفی ہونا چاہیے۔ مقررین نے کہا کہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ امریکی سفیر کی بلوچستان آمد کے ساتھ ہی دہشتگردی کی کارروائیوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے، دوسری جانب امریکہ کا کوئٹہ میں سفارتخانہ کھولنے کا مطالبہ آزاد بلوچستان کے نعرے کو حتمی شکل دینے کی علامت ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی سفیر کی نقل و حرکت پر پابندی لگائے ورنہ ملک کا امن و سکون غارت ہوجائے گا۔ مقررین نے شہداء کے ورثاء سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھیں، پوری قوم اُن کے ساتھ ہے۔بعدازاں جلسے کے اختتام پر احتجاجی ریلی علمدار روڈ سے نکالی گئی جو اپنے راستے سے ہوتے ہوئے بہشت زینب (ص) قبرستان پر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلیمین کے مرکزی سیکرٹری امور جوانان علامہ اعجاز حسین بہشتی نے خطاب کیا اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ہمیں دہشت گردی روکنے کیلئے بہت کچھ کرنا ہے جس کے کیلئے ہمیں اتحاد قائم کرنے کی ضرورت ہے، جزوی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر قومی امور پر مل بیٹھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا آج بھی نمازِ جمعہ کے بعد پوررے پاکستان میں‌ سانحہ عید الفطر کیخلاف احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم کوئٹہ کے غیور عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ پوری ملت اُن کی پشت پر کھڑی ہے، مشکل کی اس گھڑی میں قوم اُن کے ساتھ ہے۔ہزارہ ٹرائیب ڈاٹ کام کی رپورٹ: ابراہیم ہزارہ: احتجاجات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیئےعلامہ سید ہاشم موسوی: ہمیں اپنی بقا اور دہشت گردی روکنے کیلئے بہت کچھ کرنا ہوگاایم این اے سید ناصر علی شاہ: میں قوم کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہوں علامہ امتیاز بہشتی: کوئٹہ کے شہدا کو سلام ہو جنکو سید حسن نصراللہ نے پہلے درجے کے شہدا قرار دیاسردار سعادت علی خان: حق و باطل کی جنگ حضرت آدم کے دور سے جاری ہےکل عید کے تیسرے روز شہدائے نماز عید کا رسم سوئم امام بارگاہ نچاری میں منایا گیا جہاں‌ پر شہداء کے درجات کی بلندی کیلئے خصوصی دعائیں اور قرآن خوانی ہوئی۔ دن بھر زندگی کے مختلف شعبوں‌سے تعلق رکھنے والے افراد قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی میں شرکت کرتے رہے۔قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کے اختتام پر ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ ہوا جس میں‌ قوم و ملت کے علماء کرام اور اکابرین نے خطاب کیا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے محمد ابراہیم ہزارہ نے کہا کہ ان دہشت گردیوں‌ کا سلسلہ بغیر احتجاج کے ختم نہیں ہوگا ہمیں‌ مسلسل احتجاج کرنا چاہیئے اور اُس وقت تک یہ احتجاج جاری رہنا چاہئے جب تک یہ سلسلہ بند نہیں‌ ہوتا۔امام جمعہ کوئٹہ علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا کہ ہمیں دہشت گردی روکنے کیلئے بہت کچھ کرنا ہوگا اور کوئی کام قوم کے اتحاد کے بغیر ممکن نہیں۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایم این اے سید ناصر علی شاہ نے کہا:  میں‌ نے ہر پلیٹ فارم پر صوبائی حکومت کی نااہلی اور انتظامیہ کے ناکامی کی آواز بلند کی، صوبائی حکومت خود ان کارستانیوں میں ملوث ہے اور صوبائی اور وفاقی حکومت دونوں‌ ناکام ہوچکی ہیں۔ میں نے پارلیمنٹ میں‌ وزیراعظم اور ان کی حکومت کو نااہل قرار دیتے ہوئے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے قوم سے کہا: میں‌ دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے قوم کے ساتھ ہر ممکنہ تعاون کرنے کوتیار ہوں۔جلسے کے ‌آخر میں خطاب کرتے ہوئے سردار سعادت علی خان نے کہا: حق وباطل کی جنگ آج سے نہیں بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کے دور سے چلتی آرہی ہے اور جب تک دنیا باقی ہے یہ جنگ جاری رہے گی اور یہ ہمارےلئے فخر کی بات ہے کہ کربلائے کوئٹہ میں حق و صداقت کا علم ہم غیور ہزارہ شیعہ قوم کے ہاتھوں میں ہے اور ہمیں‌ فخر ہے مولا علی علیہ السلام کے نام پر اور اُن شہدا پر جو محبتِ محمد و آلِ محمد میں شہید ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا: جو سیاسی پارٹیاں اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ یہ سلسلہ سیاسی انداز میں حل ہوسکتا ہے تو میں‌ تو سمجھتا ہوں کہ یہ اُن کی بھول ہے کیونکہ جو جنت کے شوق سے دیوانہ وار ہمیں قتل کرتے ہیں اُن کے ساتھ کیا مصالحت ہوسکتی ہے؟ انہوں‌ نے آخر میں کہاں کہ ان سب سے نمٹنے کیلئے ہمیں‌ خود تیار ہونا چاہئیے۔جلسے کے آخر میں‌ علامہ ابن الحسن نے مندرجہ ذیل قرارداد پیش کیں:1۔ ٹارگٹ کلنگ کا خاتمہ کیا جائے۔2۔ گورنمنٹ کے عہدیدار فرائض سنیھالیں یا استعفیٰ دے دیں۔3۔ تمام اقوام کو اتحاد بین المسلمین کی دعوت دیتے ہیں۔4۔ اِن حملوں کی ذمہ دار صوبائی حکومت ہے۔احتجاجی جلسے کے بعد شرکاء جلوس کی شکل میں ہزارہ قبرستان گئے جلوس کے شرکاء نے حسینیت کے حق میں انتظامیہ، صوبائی حکومت بالخصوص وزیراعلیٰ، برطانیہ، امریکہ و اسرائیل اور اُنکے ایجنٹوں، لشکر جھنگوی اور وفاقی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ جلوس علمدار روڈ سے ہوتا ہوا بہشت زینب ہزارہ قبرستان پہنچا جہاں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی عہدیدار علامہ امتیاز بہشتی نے کہا: ہم پورے ملک اور پاکستان کے کونے کونے میں‌ صدائے احتجاج بلند کریں گے اور یہ سلسلہ اب شروع ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: کہ یوں تو پورے ملک میں ملت جعفریہ شہید دے رہی ہے مگر یہ سعادت صرف کوئٹہ کے شہدا کو حاصل ہے کہ جنہیں سید حسن نصراللہ نے سلام پیش کرتے ہوئے درجہ اول کے شہداء قرار دیا اور جن کو رہبر معظم نے بہتر الفاظ میں یاد کیا۔

ادھر نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا: دہشت گردوں کی اِن بزدلانہ کاروائیوں سے ہم ڈرنے والے نہیں ہیں

تفصیلات کے مطابق نماز جمعہ کے خطبے میں علامہ سید ہاشم موسوی نے شہدائے عید الفطر کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے شہداء کے قربانیوں پر فخر ہے اور دہشت گردوں کی اِن بزدلانہ کاروائیوں سے ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شہیدوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا اور بہت جلد یہ دہشت گرد ناکام ہونگے.

علامہ سید ہاشم موسوی نے کوئٹہ کے نوجوانوں‌ کو اتحاد و اتفاق قائم رکھنے کی تلقین کی اور آخر میں شہداء‌ کے بلند درجات کیلئے دُعا کی۔۔۔۔۔۔۔۔

/110